سرسید یونیورسٹی کا ’ پاکستان اور یورپ کی تعمیراتی صنعت‘ کے موضوع پر فورم کا انعقاد

کراچی:(ویب ڈیسک) سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ سول انجینئرنگ اینڈ آرکیٹیکچر کے زیرِ اہتمام’ پاکستان اور یورپ کی تعمیراتی صنعت‘ کے موضوع پر ایک فورم کا انعقاد کیا گیا.

فورم سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر ولی الدین کا کہنا تھا کہ تیزی سے بدلتی عالمی صورتحا ل میں اقتصادی ترقی میں تعمیراتی صنعت مرکزی کردار ادا کرے گی ۔ موجودہ حکومت تعمیراتی صنعت کی ترقی کے لئے اہم اقدامات کررہی ہے اور مراعاتی پیکچ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت تقریباََ تیس بلین روپے کی چھوٹ ملی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 2 برس میں تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے ۔

آسٹریا میں تعینات پاکستان کے سفیر ، آفتاب کھو کھر نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کا تناسب زیادہ ہے ۔ اس لئے رہائشی ضرورتوں کے پیش نظر عمودی عمارتیں زیادہ بنائی جاتی ہیں ۔ دنیا کے کئی ممالک کی آبادی کراچی کی آبادی جتنی ہے ۔ حکومتِ پاکستان نے تعمیراتی صنعت کے فروغ کے لیے بہت اہم اقدامات کئے ہیں ۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے آسٹریا کے آرکیٹیکٹ فلیمر احمتی نے کہا کہ آسٹریا اور یورپ میں عمارت کی تعمیر کے لئے موجود قوانین کافی سخت ہیں جن پر سختی سے عمل بھی کیا جاتا ہے ۔ یورپی قوانین کے مطابق یہاں نکاسی آب ضائع نہیں کیا جاسکتا، بلکہ مکان تعمیر کرنے والا اس کی ریسائیکلنگ کا سسٹم بناتا ہے ۔ یورپ میں ہر عمارت کی تعمیر سے پہلے انرجی سرٹیفکیٹ لینا لازمی ہوتا ہے ۔ آسٹریا میں لائسنس کے بغیر کوئی آرکیٹیک کام نہیں کر سکتا اور لائسنس حاصل کرنے کے لئے 2 سال کا تجربہ ضروری ہے ۔

سینئر ڈائریکٹر ایس بی سی اے ، فرحان قیصر نے کہا کہ شہر ِ کراچی نے ہر ایک کو اپنے اندر سمو لیا لیکن افسوس اس شہر کو کسی نے اپنا نہیں سمجھا ۔ پاکستان کا موازنہ یورپ یا آسٹریا سے کرنا نامناسب ہے کیونکہ دونوں جگہ کی آبادی میں نمایاں فرق ہے ۔ یورپ کی آبادی چونکہ نسبتاََکم ہے اس لیے وہاں افقی عمارتیں بن سکتی ہیں ، مگر پاکستان کی بے تحاشہ آبادی کی وجہ سے عمودی یا اونچی عمارتیں بنانا ضروری ہے ۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں