ماہانہ 1000 ڈالر کمانے والا ایک سالہ انفلوئنسر بچہ

فلوریڈا:(ویب ڈیسک) انٹرنیٹ کا کمال دیکھیں کہ صرف ایک برس کا بچہ سفر کا انفلوئنسر بن گیا ہے اور اپنی مقبولیت کی بنا پر ایک ہزار ڈالر ماہانہ بھی کما رہا ہے۔

اس بچے کا نام برِگس ڈیرنگٹن اب یلو اسٹون پارک کے بھیڑیئے دیکھ چکے ہیں اور الاسکا کے بھورے ریچھوں کے مسکن تک بھی گئے ہیں۔ یہاں تک کہ یوٹاہ کی پتھریلی قوس اور کیلیفورنیا کے ساحلوں کی سیر کرچکے ہیں۔

بچے کی والدہ جیس کہتی ہیں کہ 14 اکتوبر 2020 میں جنم لینے والے برگس اب شاید دنیا کے سب سے کم عمر سفری انفلوئنسر ہیں۔ جیسے ہی اس کی تصاویر پوسٹ کی گئیں لوگوں نے اس میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ اب یہ حال ہے کہ اسے انسٹاگرام پر ڈھائی لاکھ لائکس مل چکے ہیں۔ ٹک ٹاک پر اس کے فالوورز کی تعداد 30 ہزار ہے۔

لیکن یاد رہے کہ بچے کی 28 سالہ والدہ جیس، پہلے ہی ٹریول بلاگر ہیں اور بہت زیادہ رقم کمارہی ہیں۔ تاہم اب ان کا ایک سالہ بیٹا بھی رقم کمانے لگا ہے۔ جیس بھی بہت زیادہ سفر کرتی رہیں اور اب اس میں ننھا برگس بھی شامل ہوگیا ہے۔

لیکن بچے کی پیدائش کے بعد بھی ان کا سفر اور بلاگنگ جاری رہی۔ لیکن لوگوں نے جب برگس کی تصاویر کو غیرمعمولی طور پر پسند کیا جانے لگا تو اس کا الگ سے اکاؤنٹ بنادیا گیا۔ اس دوران انہیں معلوم ہوا کہ اس عمر کا کوئی یوٹیوبر، انفلوئنسر ایسا نہیں جو بہت سفر کرتا ہے۔

اب یہ بچہ امریکہ کی 16 ریاستوں کی سیر کرتے ہوئے 45 پروازیں مکمل کرچکا ہے۔ اس کے علاوہ کورونا میں بھی انہوں نے سفر کیا لیکن تمام حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کیا گیا۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں