نیوزی لینڈ میں ’سرکاری جادوگر‘ کو نوکری سے نکال دیا گیا!

کرائسٹ چرچ:(ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ میں کرائسٹ چرچ کی سٹی کونسل نے شہر کے واحد سرکاری جادوگر کو نوکری سے نکال دیا ہے جو تقریباً 35 سال سے اس شہر کی سڑکوں پر جادوئی کرتب دکھا کر لوگوں کا دل بہلا رہا تھا۔

اس جادوگر کا اصل نام تو ایان بریکنبری ہے لیکن شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس پر اس کا نام ’دی وزارڈ‘ (جادوگر) لکھا ہوا ہے۔

اسے 1980 کے عشرے میں کرائسٹ چرچ سٹی کونسل نے ’سرکاری جادوگر‘ کی نوکری دی تھی اور اس کے ذمے یہاں آنے والے سیاحوں کو دلچسپ جادوئی کرتب دکھا کر انہیں لطف اندوز کرنا تھا، تاکہ وہ اس شہر کی سیر کو یاد رکھیں اور تفریح کےلیے یہاں بار بار آتے رہیں۔
2020 میں سرکاری جادوگر کی سالانہ تنخواہ 16,000 نیوزی لینڈ ڈالر (20 لاکھ پاکستانی روپے) تھی جبکہ وہ اپنے پورے کیریئر کے دوران کرائسٹ چرچ سٹی کونسل سے مجموعی طور پر 368,000 نیوزی لینڈ ڈالر (4 کروڑ 60 لاکھ پاکستانی روپے) تنخواہ لے چکا ہے۔

اس بارے میں سٹی کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ بہت مشکل تھا لیکن آج اس شہر کے مقامات اور سیاحوں کو متوجہ کرنے کے تقاضے، دونوں ہی بہت تبدیل ہوچکے ہیں جن کے پیشِ نظر اب انہیں ’سرکاری جادوگر‘ کی خدمات درکار نہیں۔

کرائسٹ چرچ کے مقامی لوگوں نے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے البتہ اس کی مخالفت کسی نے نہیں کی۔

دوسری جانب ’وزارڈ‘ کا کہنا ہے کہ اسے اپنی ملازمت چھن جانے کا کوئی افسوس نہیں اور وہ سرکاری ملازمت کے بغیر ہی اپنے جادوئی کرتبوں سے لوگوں کو خوش کرنا جاری رکھے گا۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں