کورونا وائرس کا ایک اور خطرناک پہلو منظر عام پر

نیویارک: ( ویب ڈیسک ) عالمی وبا کورونا کے باعث لگائی گئی پابندیوں نے سنگین اثرات مرتب کئے ہیں، اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے بہبود اطفال کے ادارے یونیسیف نے اس حوالہ سے ہلاکت خیز عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے لگائی گئی پابندیوں کے سنگین نفسیاتی اثرات سے بیان کئے ہیں۔

یونیسیف کے مطابق دنیا بھر میں دس سے انیس برس تک کی عمر کا ہر ساتواں نوجوان کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا شکار ہے، اس عمر کے نوجوانوں میں پائے جانے والے نفسیاتی مسائل میں ڈپریشن، خوف اور ذہنی بے چینی نمایاں ہیں۔

عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ایسے نوجوانوں کی مدد کے لیے سہولیات اور ان کے ذہنی مسائل کے علاج کے لیے دستیاب فنڈز کی بہت کمی ہے، یونیسیف نے دنیا کے ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ نوجوانوں کے ذہنی مسائل تدارک کے لئے کا م کرنا چاہئے۔

اس سے قبل امریکا میں کوروناوائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماری کووڈ19 کے حوالے سے نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ وبائی مریضوں کو دماغی مسائل کا بہت زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے.

تحقیق کے مطابق کوروناوائرس کے بہت زیادہ بیمار ہوکر آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں میں دماغی افعال کی محرومی کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے جن میں دماغی ہذیان، کوما اور طویل المعیاد بنیادوں پر ڈیمنشیا سمیت دیگر مسائل شامل ہیں۔

امریکا کی وینڈربلٹ میڈیکل یونیورسٹی کی یہ تحقیق طبی جریدے دی لانسیٹ ریسیپٹری میڈیسین میں شائع ہوئی تھی۔ اس ریسرچ میں اسپین کے ماہرین نے بھی حصہ لیا۔ یہ دماغی مسائل کے حوالے سے سب سے بڑی تحقیق تھی جس میں 28 اپریل 2020 سے قبل 14 ممالک کے 2088 مریضوں پر مشاہدہ کیا گیا تھا۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں