کراچی:اگرسندھ حکومت نے مزید لاک ڈاؤن کیا تو مزاحمت کریں گے،تاجر رہنما

الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان نے کہا کہ لاک ڈاؤن دراصل معاشی کریک ڈاؤن ہے تاجروں کو جینے کا حق دیا جائے رہائشی علاقے کھلے رکھ کر صرف بازار بند کر کے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا الہی سیٹر ریگل چوک پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ 15 روز تک ایسے کاروباری علاقے بند کر کے تاجروں پر ظلم کیا گیا جہاں کرونا کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا یہ عمل تاجروں اور ملکی معیشت سے دشمنی کے مترادف ہے۔ حکومت معاشی ریلیف دیا کرتی ہے لیکن چھوٹے تاجروں کو ساڑھے تین ماہ کاروبار بند کرا کے سندھ حکومت اور وفاقی حکومت نے کوئی ریلیف نہیں دیا تاجروں کے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ وفاقی بجٹ میں بھی تاجروں کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کاروباری اوقات کا وقت بڑھایا جائے مارکیٹیں رات نو بجے تک کھولی جائیں اور ہفتہ اور اتوار کو بھی مارکیٹ کھولی جائیں تاکہ تاجروں کے نقصانات کا ازالہ ہوسکے دنیا بھر کاروباری زندگی معمول پہ آگئی ہے اور ملک میں ریلوے اور ہوائی جہاز پر سفر شروع کر دیا گیا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ شادی ہال اور ریسٹورانٹ وغیرہ کو بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر SOP کے تحت کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے مزید لاک ڈاؤن نہ کیا جائے اگر حکومت سندھ نے مزید لاک ڈاؤن کیا تو ہم مزاحمت کریں گے.

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں