کراچی:سندھ کے ہیلتھ آفیسرز سرکاری دوائیاں بیچ کر صوبائی حکومت کو بھتہ دیتے ہیں، حلیم عادل شیخ

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر و سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے سندھ اسمبلی کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلاول صاحب اپنے چیلینج کا انتظار کر رہے ہیں کہ این آئی سی وی ڈی جیسا اسپتال پورے ملک میں دکھا دیں۔؟ میں واک آور دیتا ہوں بلاول صاحب آپ جیت گئے ہیں پورا پاکستان ہار گیا ہے۔اس جیسا اسپتال پورے پاکستان میں واقعی نہیں ہوسکتا جس میں 36 کروڑ سالانہ تنخواہوں کی مد میں جارہے ہوں جس کا ایگزیکیٹو ڈائریکٹر سیاسی بنیادی پر ایک ریٹائرڈ بیورو کریٹ کو لگایا گیا ہو جو 65 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کرتا ہوں حلیم ّادل شیخ کا کہنا تھا کہ ہم بلاول سے شکست تسلیم کرتے ہیں ایسا اسپتال کہیں نہیں ہوگا۔ این آئی سی وی ڈی آج بھی 16 ارب کا مقروض ہے این جی او پلاسٹری کے چالیس ہزار، این جی او گرافی کے 20 ہزار روپے پرائیوٹ ڈاکٹروں کو دیئے جاتے ہیں کیا یہ اسپتال پیپلزپارٹی نے بنایا تھ؟ا این آئی سی وی ڈی اسپتال میں ٹرسٹ بنا دیا گیاہے کوئی سرکاری اسپتال میں ٹرسٹ نہیں بنایا جاتا ٹرسٹ کے سیکریٹری ندیم قمر نے اکاونٹ بینک الفلاح میں کھولا ندیم رضوی ، ندیم قمر ٹرسٹ کے سربراہ تھے ٹرسٹ کے نام پر کرپشن کی گئی جس کا کوئی احتساب نہیں ہوا حلیم عادل شیخ نے مزید کہا بلاول نے کہا وفاق نے تین اسپتالوں پر حملہ کر دیا ہے، مراد علی شاہ کہتے ہیں 239 ارب پر وفاق نے ڈاکا ڈالا ہے یہ سیاسی لوگوں کی زبان ہونی چاہیے؟ یہ اسپتال پچاس سال پرانے ہیں وفاق کے اسپتال تھے 18 ترمیم کے بعد سندھ حکومت کے حوالے ہوئے ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا سپریم کورٹ نے فیصلا دیا یہ اسپتال وفاق کے حوالے کئے گئے کیا عدالتوں نے بھی حملہ کیا؟ این آئی سی وی ڈی کی آڑ میں سالانہ اربوں کی کرپشن ہورہی ہے رکن سندھ اسمبلی کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ میں دو کروڑ کی دوائیوں کی چوری کی گئی اس کرونا کے حالات میں بھی دوائیوں کی چوری ہوئی۔ ڈی ایچ او کی جانب سے دوائیاں بیچی گئی اگر یوں دوائیاں مارکیٹ میں بیچی جاتی ہیں تو کتوں کی ویکسین کہاں سے ملے گی اور کیسے ملے گی؟ حلیم ّادل شیخ کا کہنا ہے کہ سندھ کا ہر ڈی ایچ او صوبائی حکومت کو بھتہ دیکر دوائیاں بیچتے ہیں۔

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں